انکولہ،17؍ جون (ایس او نیوز) اب تک جھار کھنڈ، بہار ، یوپی ، دہلی جیسی ریاستوں کے دوردراز مقامات سے جعلسازوں کی سرگرمیوں اور سائبر کرائم کی کہانیاں عام تھیں ، لیکن اب ضلع شمالی کینرا کے انکولہ جیسے چھوٹے شہر سے بھی دھوکہ دہی کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حال ہی میں مہاراشٹرا پولیس نے انکولہ سے تعلق رکھنے والے سہیل سید (24سال) ، سید محمد اطہر (24 سال) ، محمد کیف قادری (22 سال) اور مفتیاز پیر زادے نامی تین نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے دھوکہ دہی کرنے اور لوگوں کو لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے نوجوان قرضہ دینے کے نام پر لوگوں کو ایک خاص لون ایپ ڈاون لوڈ کرنے کو کہتے اور اس کے ذریعے لوگوں کی ذاتی اور نجی معلومات حاصل کرتے تھے ۔ پھر اس کے بعد انہیں کال کرکے رقم ہراساں اوربلیک میلنگ کے سہارے رقم وصول کرتے تھے ۔ سہیل سید کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایم بی اے کی ڈگری رکھتا ہے اور اس دھوکہ دہی کے جال میں وہ سپروائزر کا کردار نبھا رہا تھا۔
مہاراشٹرا پولیس نے بتایا کہ مہاراشٹرا حکومت کے وزیر داخلہ نے لون ایپ دھوکہ دہی معاملہ کو بہت ہی سنجیدگی سے لیتے ہوئے 15 دن قبل سائبر پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کی تھی اور سخت کارروائی کرنے کی تاکید کی تھی ۔ اس پر سائبر پولیس نے اس جال کا پردہ فاش کے سلسلے میں تیز رفتاری سے کارروائی کی اور دھارواڑ کے احمد حسین نامی ایک ملزم کو گرفتار کیا ۔ اس سے پوچھ تاچھ کی روشنی میں انکولہ کے ان تین ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ مزید کچھ ملزمین کو جلد ہی گرفتار کرنے کی توقع ہے۔